امریکہ میں شدید گرمی کی لہر نے یومِ آزادی کی تقریبات کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث واشنگٹن ڈی سی سے فلاڈیلفیا تک کئی اہم تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ملک کے مشرقی اور وسطی علاقوں میں 165 ملین سے زائد افراد اس جان لیوا گرمی اور حبس کی لپیٹ میں ہیں، جہاں درجہ حرارت کئی دنوں تک 38 ڈگری سینٹی گریڈ (100 فارن ہائیٹ) رہنے کی توقع ہے۔ یہ صورتحال امریکی تاریخ کے سب سے اہم قومی تہواروں میں سے ایک کو متاثر کر رہی ہے۔
امریکی حکام نے شہریوں کو شدید گرمی سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ گرمی کی لہر نہ صرف صحت کے لیے خطرناک ہے بلکہ اس سے روزمرہ کی زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر ہونے والی پریڈز، آتش بازی کے مظاہرے اور دیگر عوامی اجتماعات کو منسوخ یا ملتوی کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو گرمی کے مضر اثرات، جیسے ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی سے بچایا جا سکے۔
یہ شدید گرمی کی لہر آئندہ کئی دنوں تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے کولنگ سینٹرز قائم کیے ہیں اور عوام سے گھروں میں رہنے اور پانی کا زیادہ استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اس طرح کی شدید گرمی کی لہروں میں اضافہ ہو رہا ہے، جو دنیا بھر میں انسانی زندگی اور ماحولیات کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔


