واشنگٹن — امریکہ نے ایران کے خلاف ایک نئی اقتصادی مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس میں ان نیٹ ورکس، کمپنیوں اور مالیاتی چینلز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن کے بارے میں واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ مہینوں کے تنازع کے بعد تہران کی معیشت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ اقدام ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ اسے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی پاسداری پر مجبور کیا جا سکے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے “آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ” کا اعلان کرتے ہوئے اس مہم کو ایک بے مثال، مکمل حکومتی کوشش قرار دیا جس کا مقصد ایران کو اقتصادی تنہائی کی طرف دھکیلنا ہے، جب تک کہ تہران بین الاقوامی نظام میں دوبارہ شامل ہونے کا انتخاب نہ کرے۔ اس آپریشن کا ہدف ایران کی مالیاتی رگوں کو کاٹنا اور اس کی آمدنی کے ذرائع کو خشک کرنا ہے تاکہ اس کی علاقائی سرگرمیوں اور جوہری عزائم کو روکا جا سکے۔
اس آپریشن کے تحت خاص طور پر ان مالیاتی راستوں اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو ایران کو عالمی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرتی ہیں، جن میں چین سے منسلک نیٹ ورکس بھی شامل ہیں۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ایران کو اپنے علاقائی اثر و رسوخ اور متنازعہ جوہری پروگرام کے لیے فنڈز فراہم کرنے سے روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لاتا۔




