کینیڈا نے امریکہ کے خلاف جوابی محصولات نافذ کر دیے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل تجارتی جنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ اقدام امریکہ کی جانب سے کینیڈا کی مصنوعات پر لگائے گئے محصولات کے ردعمل میں کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد واشنگٹن پر اپنی تجارتی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔
ان نئے محصولات کا اطلاق تقریباً 20 ارب ڈالر (کینیڈین کرنسی میں) مالیت کی امریکی مصنوعات پر ہوگا، جس میں فولاد، ایلومینیم، زرعی مصنوعات اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ کینیڈا کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ جوابی محصولات اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک امریکہ اپنی جانب سے عائد کردہ محصولات کو واپس نہیں لیتا۔ اس صورتحال سے دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجارتی کشیدگی دنیا کے سب سے بڑے دوطرفہ تجارتی تعلقات کی پائیداری کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان مضبوط اقتصادی روابط ہیں، اور اس تجارتی جنگ کے عالمی سپلائی چینز اور عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازعات کا بڑھنا عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کی صورتحال کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

