واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت کا اشارہ دیا ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ٹالنا اور کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچنا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، یہ بات چیت دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تناؤ کو کم کرنے اور باہمی خدشات کو دور کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ مذاکرات، جو اکثر ثالثوں کے ذریعے خفیہ طور پر ہوتے ہیں، ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سرگرمیوں اور امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں جیسے پیچیدہ معاملات پر مرکوز ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ وہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ایسی صورتحال سے بچا جا سکے جو خطے کے امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اگرچہ امریکی حکام نے ان مذاکرات کی تفصیلات اور پیش رفت کی نوعیت کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کیں، لیکن ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کی سطح بلند ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی فضا قائم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم، ابھی بھی کئی اہم اور بنیادی اختلافات موجود ہیں جن پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

