کینیڈا کے وزیراعظم نے امریکہ کے ساتھ ایک مجوزہ تجارتی معاہدے کو مسترد کر دیا ہے، جسے وہ اپنے ملک کے لیے غیر موزوں اور نقصان دہ سمجھتے تھے۔ اس فیصلے نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جو کہ عالمی سطح پر تجارتی جنگ کی صورتحال کا حصہ ہے۔
وزیراعظم کے اس جرات مندانہ اقدام کو کینیڈا کی ایک بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے۔ کینیڈین عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے کینیڈا کی معیشت پر سنگین اور مہنگے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔
کینیڈین حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اپنے تجارتی شراکت داروں پر نئے معاہدوں کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ وزیراعظم کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ کینیڈا ممکنہ معاشی نقصانات کے باوجود اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے لیے تیار ہے۔



