حالیہ رپورٹس اور مذاکرات کے آخری لمحات کی تفصیلی معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان ٹیرف کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات کس طرح ایک مکمل تجارتی جنگ میں تبدیل ہو گئے۔ امریکہ نے کینیڈا کو بظاہر کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں بہترین ڈیل کی پیشکش کی تھی، لیکن اس کے بدلے میں کینیڈا کو جو رعایتیں دینا پڑ رہی تھیں، انہیں ناقابل قبول سمجھا گیا۔
ذرائع کے مطابق، واشنگٹن کی جانب سے پیش کی گئی شرائط میں کینیڈا کی معیشت کے کچھ اہم شعبوں پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ تھا، جنہیں اوٹاوا اپنی قومی مفادات کے خلاف سمجھتا تھا۔ ان شرائط کو کینیڈا کے لیے اپنی خودمختاری اور اقتصادی ڈھانچے پر سمجھوتہ کرنے کے مترادف قرار دیا گیا، جس کی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ کینیڈا کے حکام کا مؤقف تھا کہ امریکہ کی پیشکش بظاہر پرکشش تھی، لیکن اس کی اصل قیمت بہت زیادہ تھی۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد، دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا اور یہ صورتحال بالآخر ایک مکمل تجارتی جنگ کی شکل اختیار کر گئی۔ اس تجارتی جنگ کے عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں مزید تلخی آ سکتی ہے۔




