اسرائیل اور لبنان نے امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازعات کو حل کرنے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جس سے خطے میں استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
تاہم، اس معاہدے میں حزب اللہ شامل نہیں ہے، جو لبنان کی ایک اہم سیاسی اور عسکری قوت ہے۔ جمعہ کو طے پانے والے اس معاہدے میں حزب اللہ کی عدم شمولیت مستقبل میں اس کی پائیداری اور عملدرآمد کے حوالے سے سوالات کو جنم دے رہی ہے، کیونکہ حزب اللہ کا خطے کی صورتحال پر گہرا اثر و رسوخ ہے۔
ماضی میں بھی اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے کئی معاہدے ہو چکے ہیں، لیکن ان کے باوجود سرحد پار سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک تمام فریقین، بشمول حزب اللہ، اس معاہدے کی پاسداری نہیں کرتے، خطے میں مکمل اور دیرپا امن کا قیام مشکل رہے گا۔





