امریکہ کی نئی پابندیاں: ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے پس منظر میں ایک اہم اقدام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت پانچ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 60 اداروں پر نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے کسی ایک ملک کا نام نہیں لیا، تاہم ان پابندیوں کا ہدف واضح طور پر ایران اور اس سے منسلک نیٹ ورکس ہیں۔ یہ پابندیاں بنیادی طور پر کمپنیوں، بحری جہازوں اور افراد کو نشانہ بناتی ہیں۔

ان نئی پابندیوں میں شامل اداروں کی تعداد 60 ہے جو مختلف اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ صدر ٹرمپ کا مقصد ایران کے ساتھ جاری محاذ آرائی میں اپنی فتح کا تاثر پیدا کرنا ہے۔ وہ عالمی برادری پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کہ وہ امریکہ کے موقف کی حمایت کرے اور ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک واضح انتخاب کرے۔

صدر ٹرمپ اب دنیا سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ امریکہ کے مفادات اور ایران کے ساتھ تعلقات کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرے۔ یہ اقدام ایران کو مزید تنہا کرنے اور اس کی اقتصادی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی امریکی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس سے عالمی سطح پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان ایران کے حوالے سے مزید تقسیم پیدا ہونے کا امکان ہے۔

  • Related Posts

    روسی قبضے میں سالوں گزارنے کے بعد یوکرینی شہریوں کا بیان: ‘ہم جہنم سے واپس آئے ہیں’

    یوکرین کے وہ شہری جو کئی سالوں سے روس کے زیرِ قبضہ فرنٹ لائن شہروں میں زندگی گزار رہے تھے، اب اپنے انخلا کے بعد اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے…

    پیرس میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے پرتشدد، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

    فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ناقص عوامی خدمات کے خلاف جاری احتجاجی تحریک نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔ ہفتے کے روز ملک بھر میں ہونے…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔