صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے پس منظر میں ایک اہم اقدام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت پانچ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 60 اداروں پر نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے کسی ایک ملک کا نام نہیں لیا، تاہم ان پابندیوں کا ہدف واضح طور پر ایران اور اس سے منسلک نیٹ ورکس ہیں۔ یہ پابندیاں بنیادی طور پر کمپنیوں، بحری جہازوں اور افراد کو نشانہ بناتی ہیں۔
ان نئی پابندیوں میں شامل اداروں کی تعداد 60 ہے جو مختلف اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ صدر ٹرمپ کا مقصد ایران کے ساتھ جاری محاذ آرائی میں اپنی فتح کا تاثر پیدا کرنا ہے۔ وہ عالمی برادری پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کہ وہ امریکہ کے موقف کی حمایت کرے اور ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک واضح انتخاب کرے۔
صدر ٹرمپ اب دنیا سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ امریکہ کے مفادات اور ایران کے ساتھ تعلقات کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرے۔ یہ اقدام ایران کو مزید تنہا کرنے اور اس کی اقتصادی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی امریکی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس سے عالمی سطح پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان ایران کے حوالے سے مزید تقسیم پیدا ہونے کا امکان ہے۔


