امریکی ماہرین موسمیات نے جمعرات کو بتایا کہ ایل نینو موسمیاتی پیٹرن نے گزشتہ ماہ کے دوران مزید شدت اختیار کر لی ہے اور اکتوبر سے دسمبر کے درمیان اپنے عروج پر پہنچنے پر یہ تاریخ کے سب سے بڑے ریکارڈ شدہ واقعات میں سے ایک ہونے کا قوی امکان ہے۔
ایل نینو بحر الکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سطح سمندر کے درجہ حرارت کو بڑھاتا ہے، جس سے دنیا بھر میں ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارش کے پیٹرن میں تبدیلیاں آتی ہیں اور مجموعی عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اپنی تازہ ترین رپورٹ میں، امریکی کلائمیٹ پریڈکشن سینٹر (سی پی سی) نے کہا ہے کہ اکتوبر اور دسمبر کے درمیان ‘انتہائی مضبوط’ ایل نینو کے 81 فیصد امکانات ہیں جو 1950 سے شروع ہونے والے تاریخی ریکارڈ میں سب سے بڑے واقعات میں سے ایک ہو گا۔ ‘انتہائی مضبوط’ کی تعریف انڈیکس ویلیو سے 2.0 ڈگری سیلسیس (3.6 ڈگری فارن ہائیٹ) یا اس سے زیادہ کے طور پر کی گئی ہے۔ سی پی سی نے یہ بھی بتایا کہ اس واقعے کے 2027 کے اوائل موسم بہار تک برقرار رہنے کے 97 فیصد امکانات ہیں۔
یہ یورپی سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹس کے ایل نینو ماہر ٹم اسٹاکڈیل کی پیش گوئی کی تائید کرتا ہے، جنہوں نے اس ہفتے کہا تھا کہ اگر یہ واقعہ ریکارڈ توڑنے میں ناکام رہا تو یہ ‘بہت، بہت بڑی حیرت’ کی بات ہوگی۔ ایل نینو کے عام طور پر عالمی سطح پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن میں آسٹریلیا میں خشک حالات اور قحط، اور مشرقی افریقہ اور جنوبی امریکہ میں زیادہ بارشوں والی سردیاں شامل ہیں۔ امریکی نیشنل سینٹر فار ایٹموسفیئرک ریسرچ کی موسمیاتی سائنسدان اسلا سمپسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہمارے ماڈلز سے کافی شواہد ملتے ہیں کہ گلوبل وارمنگ ایل نینو کے تغیر میں اضافہ کرتی ہے، جس سے اس کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔


