اسرائیلی حکام اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ نئے سرے سے تصادم پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ایک غیر مستحکم تعطل اور امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود سامنے آ رہی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
اگرچہ امریکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، لیکن اسرائیل کی اندرونی بحث اور میڈیا رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کے امکانات کو فعال طور پر جانچ رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب غزہ میں جاری تنازعہ کے بعد خطے میں پہلے ہی غیر یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے۔
تاہم، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ مکمل جنگ کے حوالے سے اسرائیل کے اختیارات محدود ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی دباؤ، علاقائی استحکام پر ممکنہ اثرات اور ایک وسیع تر تنازعے کے خطرات ایسے عوامل ہیں جو اسرائیل کو اپنے فیصلوں میں محتاط رہنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، اسرائیلی قیادت کی جانب سے ایران کے خلاف سخت موقف برقرار رکھنے کے اشارے مل رہے ہیں۔



