امریکی حکام نے اسرائیل کی جانب سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایران کی مبینہ سازشوں سے متعلق دی گئی انتباہات کی تصدیق کرنے میں ناکامی کا اظہار کیا ہے۔ یہ انکشاف ایک حالیہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس نے دونوں اتحادی ممالک کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور ان کی تصدیق کے عمل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے واشنگٹن کو متعدد بار خبردار کیا تھا کہ ایران ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، خاص طور پر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد۔
یہ انتباہات اس وقت سامنے آئے تھے جب امریکہ اور ایران کے تعلقات اپنی نچلی ترین سطح پر تھے۔ جنوری 2020 میں بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایران کے قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے امریکہ سے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ اسرائیلی حکام کا خیال تھا کہ ایران سابق صدر ٹرمپ کو ذاتی طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے، کیونکہ وہ سلیمانی کے قتل کا حکم دینے والے تھے۔ اسرائیل، جو خود ایران کا ایک دیرینہ علاقائی حریف ہے، باقاعدگی سے امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کرتا ہے، خاص طور پر ایران سے متعلق خطرات کے بارے میں۔
تاہم، امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اسرائیلی انتباہات کی تصدیق کے لیے کافی شواہد نہیں پائے۔ امریکی حکام کے مطابق، انہیں ایران کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف کسی ٹھوس یا قابل عمل سازش کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے۔ “تصدیق نہ کر سکنے” کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی سازشیں بالکل موجود نہیں تھیں، بلکہ یہ کہ امریکی انٹیلی جنس کے پاس انہیں ثابت کرنے کے لیے کافی معلومات نہیں تھیں۔ اس صورتحال نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کی نوعیت اور ان کی تشریح پر بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان حساس انٹیلی جنس معلومات کے بارے میں مختلف جائزوں کی نشاندہی کرتا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کی پیچیدگی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔





