واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے ملک میں پیدائشی شہریت کے اصول کو ختم کرنے کی ایک اہم کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے نے چودہویں ترمیم کے تحت طویل عرصے سے قائم اس قانونی اصول کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت امریکہ کی سرزمین پر پیدا ہونے والے ہر شخص کو امریکی شہری تسلیم کیا جاتا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں امیگریشن اور شہریت کے قوانین پر شدید بحث جاری ہے۔ پیدائشی شہریت، جو کہ آئین کی چودہویں ترمیم کے ذریعے یقینی بنائی گئی ہے، کا مطلب ہے کہ امریکہ کی حدود میں پیدا ہونے والا کوئی بھی شخص، چاہے اس کے والدین کی قانونی حیثیت کچھ بھی ہو، خود بخود امریکی شہری بن جاتا ہے۔ اس اصول کو ختم کرنے کی کوششیں اکثر قدامت پسند حلقوں اور بعض سابقہ انتظامیہ کی جانب سے کی جاتی رہی ہیں، جو اسے غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے ان کوششوں پر ایک طرح سے روک لگا دی ہے اور یہ واضح کر دیا ہے کہ پیدائشی شہریت کا اصول فی الحال امریکی قانون کا ایک اٹوٹ حصہ رہے گا۔ اس فیصلے کو پیدائشی شہریت کے حامیوں کے لیے ایک بڑی قانونی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور یہ ملک کی امیگریشن پالیسیوں پر دور رس اثرات مرتب کرے گا۔







