واشنگٹن: امریکہ نے چین کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ماڈلز کی چوری میں ملوث پایا گیا تو اس پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ یہ انتباہ ایک امریکی عہدیدار، بیسنٹ، کی جانب سے سامنے آیا ہے، جس نے واضح کیا کہ امریکہ چین کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں غیر قانونی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔
یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور اس کے عالمی اثرات پر ستمبر میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات متوقع ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور مشترکہ اصول وضع کرنا ہے۔ تاہم، بیسنٹ کا یہ بیان ان مذاکرات سے قبل ہی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا شعبہ اس وقت عالمی طاقتوں کے درمیان ٹیکنالوجی کی دوڑ کا ایک اہم میدان بن چکا ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے چین پر دانشورانہ املاک کی چوری کا الزام عائد کرتا رہا ہے، اور اب مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی چوری کا معاملہ اس کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے چین پر واقعی پابندیاں عائد کیں تو اس کے عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


