میڈرڈ: مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ایک اہم شخصیت، انتھروپک (Anthropic) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ڈاریو امودی (Dario Amodei) نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو سست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی ممکنہ تباہ کن صلاحیتوں کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
امودی کا یہ بیان مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے تیزی سے ارتقاء پذیر ہونے کے تناظر میں آیا ہے، جہاں ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ مستقبل میں یہ ماڈلز عالمی سطح پر سنگین نوعیت کے نقصانات پہنچانے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔ ان نقصانات میں غلط معلومات کا پھیلاؤ، سائبر حملے، بڑے پیمانے پر ملازمتوں کا خاتمہ، اور یہاں تک کہ سماجی ڈھانچے میں خلل شامل ہو سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے سربراہ کا یہ مطالبہ ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال اور اس کی ترقی کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے جاری عالمی بحث کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات کو مکمل طور پر سمجھ اور کنٹرول نہیں کر لیا جاتا، اس کی ترقی کی رفتار کو کم کرنا ضروری ہے تاکہ انسانیت کے لیے محفوظ اور فائدہ مند مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔






