امریکی ریاست انڈیانا کے قصبے گیری میں مکینوں کو گزشتہ 12 دنوں سے بجلی کی بندش کا سامنا ہے، جس کے باعث ان میں شدید بے چینی اور مایوسی پھیل گئی ہے۔ اس قصبے کی ایک تہائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، اور بجلی کی عدم دستیابی نے ان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت “بقا کی حالت” (survival mode) میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بجلی کی طویل بندش نے گیری کے مکینوں کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء کو محفوظ رکھنا ناممکن ہو گیا ہے، جس سے خوراک کی قلت اور ضیاع کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ، موبائل فونز اور دیگر ضروری آلات کو چارج کرنے کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی دنیا سے رابطہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ غربت میں زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر سنگین ہے، کیونکہ ان کے پاس متبادل ذرائع یا جنریٹرز خریدنے کے وسائل نہیں ہیں۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے بجلی کی بحالی میں تاخیر ان کے صبر کا پیمانہ لبریز کر رہی ہے۔ بچوں اور بزرگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور صحت کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کو حل کریں تاکہ گیری کے شہری معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ ہے بلکہ ایک انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔



