انگلینڈ کے تیز گیند باز جوفرا آرچر نے 40 سال کی عمر تک کرکٹ کھیلنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، اور ان کا ماننا ہے کہ انگلینڈ کے مضبوط تیز گیند بازی کے شعبے کی گہرائی ان کے کیریئر کو طول دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ آرچر، جو حالیہ برسوں میں انجری کے مسائل سے دوچار رہے ہیں، سمجھتے ہیں کہ ٹیم میں دیگر باصلاحیت تیز گیند بازوں کی موجودگی انہیں ورک لوڈ مینجمنٹ میں مدد دے گی اور انہیں زیادہ دیر تک کھیل میں رہنے کا موقع فراہم کرے گی۔
انگلینڈ کے پاس اس وقت تیز گیند بازوں کی ایک متاثر کن کھیپ موجود ہے جس میں مارک ووڈ، سیم کرن، کرس ووکس، اولی رابنسن اور گس اٹکنسن جیسے کھلاڑی شامل ہیں۔ یہ گہرائی ٹیم کو مختلف فارمیٹس میں اور مختلف حالات میں بہترین پیس اٹیک اتارنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ آرچر کے مطابق، اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک گیند باز پر تمام بوجھ نہیں پڑے گا، جس سے انہیں اپنی فٹنس برقرار رکھنے اور انجری سے بچنے میں مدد ملے گی۔
جوفرا آرچر کا 40 سال کی عمر تک کھیلنے کا عزم ان کی کرکٹ سے لگن کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا یہ بیان انگلینڈ کی کرکٹ کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ ہے کہ ان کے پاس مستقبل کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار تیز گیند بازی کا شعبہ موجود ہے۔ اگر انگلینڈ کا پیس اٹیک اسی طرح مضبوط رہتا ہے، تو یہ نہ صرف آرچر بلکہ دیگر تیز گیند بازوں کے کیریئر کو بھی طوالت دے سکتا ہے، کیونکہ انہیں ضرورت کے مطابق آرام اور بحالی کا موقع ملے گا۔

