ایجبسٹن میں کھیلے جا رہے تیسرے ٹیسٹ کے افتتاحی روز پاکستان کی کمزور بیٹنگ لائن ایک بار پھر انگلینڈ کے سامنے ڈھیر ہو گئی، جس کے بعد میزبان ٹیم سیریز میں کلین سویپ مکمل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ سیریز میں 200 رنز تک پہنچنے میں ناکام رہنے والی مہمان ٹیم کو انگلینڈ کے چار رکنی فاسٹ باؤلنگ اٹیک نے ایک بار پھر تہس نہس کر دیا اور پوری ٹیم صرف 33.5 اوورز میں 133 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ جوش ٹنگ نے 42 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ اولی رابنسن نے 15 رنز دے کر 3 اور جوفرا آرچر نے 25 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔
جواب میں انگلینڈ نے دن کے اختتام پر 4 وکٹوں کے نقصان پر 156 رنز بنا کر پاکستان پر 23 رنز کی برتری حاصل کر لی۔ انگلینڈ کی جانب سے ایمیلیو گے اور ہیری بروک نے سنچری شراکت قائم کر کے ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔ پاکستان کے لیے ڈیبیو کرنے والے 21 سالہ رضا اللہ نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا شاندار آغاز کیا اور اپنی چوتھی ہی گیند پر جو روٹ کی قیمتی وکٹ حاصل کی۔ رضا اللہ ان تین نئے کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجنے کے بعد ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وکٹ کیپر غازی غوری اور محمد عمران بھی ڈیبیو کرنے والوں میں شامل تھے۔ اس شکست کے بعد کوچ سرفراز احمد اور ان کے اسسٹنٹ عمر گل کو بھی برطرف کر دیا گیا تھا۔
سیریز کا وہی پرانا انداز برقرار رہا، جب پاکستان کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی گئی تو ایک بار پھر اس کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے اندر ہی ٹیم 26 رنز پر 4 وکٹیں گنوا چکی تھی۔ 21 ماہ بعد ٹیم میں واپس آنے والے صائم ایوب کو رابنسن نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا، جو سسیکس کے کپتان کی 24ویں ٹیسٹ میں 100ویں وکٹ تھی۔ ان کے اوپننگ پارٹنر اذان اویس آرچر کی گیند پر وائیڈ مڈ آن پر جوش ٹنگ کے شاندار ڈائیو کیچ پر 9 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ عبداللہ شفیق بھی رابنسن کی گیند پر ڈین لارنس کے ہاتھوں گلی میں ایک عمدہ کیچ پر 3 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ جب شان مسعود نے پل شاٹ کھیلنے کی کوشش کی تو وہ بھی اپنا کیچ دے بیٹھے اور پاکستان کی بیٹنگ لائن مکمل طور پر بکھر گئی۔






