وزارت اطلاعات و نشریات نے انگور اڈہ کے مقام پر پیش آنے والے حالیہ واقعے کے حوالے سے افغان طالبان رجیم کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یہ بیان حقائق کے منافی ہے اور زمینی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ وزارت نے زور دیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ انگور اڈہ کے علاقے میں ہونے والا واقعہ سرحد پار سے دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نتیجہ تھا، جس میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے بارہا افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، جیسا کہ بین الاقوامی قوانین اور دوطرفہ معاہدوں کے تحت ان کی ذمہ داری ہے۔ افغان طالبان کا یہ بیان ان کی اپنی ذمہ داریوں سے فرار کی کوشش ہے۔
پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ وزارت نے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے جو افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ایسے بیانات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔




