سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (AI) پر کنٹرول اور ضوابط متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت اوپن اے آئی (OpenAI) سے متعلق ہیکنگ کے حالیہ واقعات کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں سیکیورٹی کے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ماضی میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں نسبتاً غیر مداخلت پسندانہ رویہ اپنایا ہوا تھا، جس میں حکومتی مداخلت کم سے کم تھی۔ تاہم، اب ان کا یہ موقف ٹیکنالوجی کے حوالے سے ان کے سابقہ نقطہ نظر میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جو کہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور اس سے جڑے خطرات کا اعتراف ہے۔
اوپن اے آئی جیسے پلیٹ فارمز پر ہیکنگ کے واقعات نے مصنوعی ذہانت سے منسلک سیکیورٹی خطرات اور ڈیٹا کی حفاظت کے خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ فیصلہ ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مزید سخت نگرانی اور ضابطوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جس کا مقصد اس تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنا اور صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنانا ہے۔





