اوپیک پلس کے سات رکن ممالک، جن میں سعودی عرب اور روس بھی شامل ہیں، نے تیل کی پیداوار میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت، یہ ممالک اپنی مجموعی پیداوار میں یومیہ 188,000 بیرل کا اضافہ کریں گے۔ یہ اقدام عالمی منڈی میں تیل کی رسد کو بڑھانے اور طلب کو پورا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اوپیک پلس، جو تیل پیدا کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ممالک کا ایک اہم اتحاد ہے، عالمی تیل کی قیمتوں اور رسد کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ اضافہ ان کے پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت وہ بتدریج کورونا وائرس کی وبا کے دوران لگائی گئی پیداواری پابندیوں کو ختم کر رہے ہیں۔ عالمی معیشت کی بحالی اور صنعتی سرگرمیوں میں تیزی کے ساتھ تیل کی طلب میں اضافے کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ تیل کی پیداوار میں یہ اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور صارفین کے لیے توانائی کی لاگت کو کچھ حد تک کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور بعض جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر، تیل کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا ایک چیلنج رہے گا۔ یہ اقدام عالمی معیشت کو سہارا دینے اور مہنگائی پر قابو پانے کی عالمی کوششوں کا بھی حصہ سمجھا جا رہا ہے۔


