اپر چترال میں گلیشیائی پگھلاؤ کے باعث آنے والے سیلاب نے یارخون وادی کو ملانے والا واحد رابطہ پل بہا دیا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 50 ہزار افراد کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ علاقے میں شدید تشویش کا باعث بنا ہے اور مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی حکام اور ذرائع کے مطابق، پل کے بہہ جانے سے یارخون کی وسیع آبادی اب مکمل طور پر الگ تھلگ ہو کر رہ گئی ہے۔ اس صورتحال سے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ، طلباء، مریضوں اور روزمرہ کے مسافروں کو بھی آمدورفت میں شدید دشواری پیش آئے گی، جس سے ان کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اپر چترال جیسے بلند پہاڑی علاقے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) اور پگھلاؤ سے آنے والے سیلابوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر متاثرہ آبادی کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کریں اور پل کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے اقدامات کریں۔ طویل مدتی حل کے طور پر، علاقے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچاؤ کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے۔





