اسلام آباد: پاکستان میں مہنگائی کی شرح اگست 2026 میں 11.15 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو ملک کی معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج کی نشاندہی کرتی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، صارفین کی قیمتوں میں یہ اضافہ عام شہریوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے، خاص طور پر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث۔
اس دوران، بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بنیادی مہنگائی، جو خوراک اور توانائی کی غیر مستحکم قیمتوں کو خارج کرتی ہے، اگست میں سال بہ سال 8.7 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ یہ جولائی میں 8.4 فیصد تھی۔ بنیادی مہنگائی میں یہ مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ معیشت میں قیمتوں کا دباؤ صرف خوراک اور توانائی کے شعبوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی یہ بلند شرح حکومت کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتیں قوت خرید کو متاثر کر رہی ہیں اور ملک میں غربت کی شرح میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ حکومت کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔





