ایتھوپیا کے شمالی علاقے تیگرے میں تازہ جھڑپوں کے بعد انٹرنیٹ سروسز کو محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، تاہم اس سے مقامی آبادی اور بین الاقوامی مبصرین کو معلومات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یاد رہے کہ تیگرے ریجن میں ماضی میں بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا رہا ہے۔ دو سالہ خانہ جنگی کے دوران، یہ علاقہ بیرونی دنیا سے مکمل طور پر کٹا ہوا تھا، جس سے وہاں کے باشندوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انسانی امداد کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ اس طویل عرصے کی بندش نے علاقے کی معیشت اور سماجی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا تھا۔
انٹرنیٹ سروسز کی معطلی یا پابندی سے نہ صرف مقامی آبادی کو معلومات تک رسائی میں دشواری ہوتی ہے بلکہ بین الاقوامی اداروں اور میڈیا کو بھی زمینی حقائق جاننے اور صورتحال کی نگرانی کرنے میں رکاوٹ پیش آتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اکثر ایسے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتی ہیں کیونکہ یہ شفافیت اور جوابدہی کو متاثر کرتے ہیں، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں تنازعات جاری ہوں۔


