امریکہ میں ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی مخالفت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اثرات ریپبلکن پارٹی کے لیے امریکی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا مشکل بنا سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ووٹرز میں شدید غصے کو جنم دے رہی ہے، جو آئندہ انتخابات میں ریپبلکنز کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
جنگ کی صورت میں معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات، جن میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی اور عالمی منڈیوں میں عدم استحکام شامل ہے، امریکی عوام کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ ووٹرز پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہیں، اور کسی نئی فوجی مہم کے معاشی بوجھ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ، جنگ کے اخلاقی اور انسانی پہلو بھی ووٹرز کے غصے کو مزید بھڑکا رہے ہیں۔
ریپبلکن پارٹی، جو اس وقت کانگریس کے کچھ حصوں پر کنٹرول رکھتی ہے، کو اس عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر ووٹرز کی ناراضگی میں اضافہ ہوتا رہا، تو یہ آئندہ وسط مدتی انتخابات یا صدارتی انتخابات میں پارٹی کی پوزیشن کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی، خاص طور پر اس کے معاشی نتائج کے پیش نظر، ریپبلکنز کے لیے کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔




