تہران میں ایک غیر معمولی مشترکہ دورے کی توقع ہے جس میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفود شامل ہوں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف اپنی جنگ کو دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے تیار کرنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ان اطلاعات نے خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے اور عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
خطے کے تین اہم ممالک، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کا یہ مشترکہ سفارتی اقدام علاقائی استحکام اور امن کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ممالک طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ تہران میں ان کی موجودگی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی بڑھتی ہوئی افواہوں کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ ممالک خطے میں کسی بھی نئی جنگ کے تباہ کن نتائج سے بخوبی واقف ہیں۔
عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگی منصوبوں کی خبریں خطے میں ایک نئی اور تباہ کن کشیدگی کو جنم دے سکتی ہیں۔ ایسے میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کا یہ سفارتی اقدام نہ صرف ایران کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے بلکہ یہ عالمی برادری کو بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ خطے کے ممالک خود اپنے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ دورہ امید ہے کہ کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔





