ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے تیل کی عالمی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔
تاہم، امریکی فوج نے تہران کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز معمول کے مطابق کھلی ہے اور وہاں جہاز رانی بلا تعطل جاری ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے یہ تردید ایران کے دعوے کی صداقت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔
یہ دعویٰ اور اس کی تردید اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امریکہ-ایران مذاکرات سے عین قبل سامنے آئی ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنا اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔ اس صورتحال نے آئندہ مذاکرات کے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
