ایران نے پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور سرحد پار تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ایرانی عہدیدار اسکندر مومنی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اقتصادی تعاون اور سرحد پار تجارت کو وسعت دینا دونوں ممالک کے لیے ایک اہم ترجیح ہے۔ یہ ہدف دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی تعلقات میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے اور باہمی اقتصادی استحکام کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کئی شعبوں میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ پاکستان اور ایران توانائی، زراعت، صنعتی مصنوعات اور دیگر اشیاء کے تبادلے کے ذریعے اپنے تجارتی حجم کو بڑھا سکتے ہیں۔ سرحد پار تجارت کو آسان بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات، جیسے کہ سرحدی منڈیوں کا قیام اور تجارتی راستوں کی بہتری، اس ہدف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسکندر مومنی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اور اسلام آباد دونوں ہی باہمی تجارت کو علاقائی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک اہم ستون سمجھتے ہیں۔
10 ارب ڈالر کے تجارتی حجم کا ہدف نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ علاقائی استحکام اور روابط کو بھی مضبوط کرے گا۔ یہ ہدف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور مشترکہ مفادات کے فروغ کا باعث بنے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس ہدف کے حصول کے لیے دونوں حکومتوں کو تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے، ویزا سہولیات کو بہتر بنانے اور نجی شعبے کی شرکت کو بڑھانے پر توجہ دینی ہوگی۔ اگر یہ ہدف حاصل کر لیا جاتا ہے تو یہ ایران اور پاکستان کے درمیان ایک نئے اقتصادی دور کا آغاز ہوگا، جس سے خطے میں تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔





