پینٹاگون کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی فوجی اڈوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی تعمیرِ نو پر اربوں ڈالر کا خرچہ آ سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطے میں امریکی افواج کے 24 مختلف فوجی مقامات پر کل 274 عمارتوں اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ نقصانات امریکی دفاعی تنصیبات کی حفاظت اور آپریشنل صلاحیتوں پر سوالات اٹھاتے ہیں۔
نقصان زدہ ڈھانچوں میں رہائشی عمارتیں، گودام، ہینگرز اور دیگر اہم فوجی تنصیبات شامل ہیں۔ یہ نقصان بنیادی طور پر ان حملوں کے نتیجے میں ہوا جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کیے گئے تھے۔ اگرچہ رپورٹ میں مخصوص حملوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں، تاہم یہ واضح ہے کہ امریکی فوجی اثاثوں کو ایک بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جس سے ان کی آپریشنل صلاحیتیں متاثر ہوئی ہیں۔ امریکی حکام نے ان نقصانات کی نوعیت اور شدت کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
ان وسیع پیمانے پر ہونے والے نقصانات کی مرمت اور تعمیرِ نو کے لیے امریکی ٹیکس دہندگان پر ایک بھاری مالی بوجھ پڑے گا۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق، ان تمام مقامات کی بحالی اور جدید کاری پر اربوں ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں، جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف امریکی دفاعی بجٹ پر دباؤ ڈالے گی بلکہ خطے میں امریکی موجودگی اور اس کی حکمت عملی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ پینٹاگون اس وقت نقصانات کے مکمل تخمینے اور بحالی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

