ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ حملے ایران نے اپنے اعلیٰ فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں کیے ہیں، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ حملے کی خبریں سامنے آتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا، جس نے عالمی سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے عراق میں عین الاسد ایئربیس سمیت دو امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات بڑھ گئے ہیں، کیونکہ یہ خطہ دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں سے ایک ہے۔ جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایک فطری ردعمل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ سرمایہ کار مستقبل کی سپلائی کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کا اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت 70 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتیں مزید بلندیوں کو چھو سکتی ہیں، جس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے اور اقتصادی ترقی کی سست روی کا باعث بن سکتی ہے۔





