فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے حال ہی میں ایک گول میز اجلاس کا انعقاد کیا جس میں اعلیٰ سطحی اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد ملک میں کیش لیس معیشت کو اپنانے اور اس کی طرف منتقلی کے امکانات پر غور کرنا تھا۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ اس گول میز کا مرکز نقد سے پاک معیشت کی طرف منتقلی تھا۔
کیش لیس معیشت کا تصور جدید دنیا میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جس کا مقصد مالیاتی لین دین میں شفافیت، کارکردگی اور سہولت کو فروغ دینا ہے۔ اس نظام کے تحت، تمام مالیاتی سرگرمیاں ڈیجیٹل ذرائع جیسے کہ بینک ٹرانسفرز، موبائل والٹس، اور کارڈز کے ذریعے انجام دی جاتی ہیں، جس سے نقد رقم کے استعمال میں کمی آتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام نہ صرف ٹیکس بیس کو وسیع کرنے میں مدد دے گا بلکہ غیر رسمی معیشت کو بھی کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
ایف پی سی سی آئی کا یہ اقدام ملک کی معاشی ترقی اور جدیدیت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ گول میز اجلاس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اس اہم تبدیلی کے لیے وسیع مشاورت اور تعاون کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ اس طرح کے اجلاس مستقبل میں کیش لیس معیشت کے نفاذ کے لیے ایک ٹھوس روڈ میپ تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔




