ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے اپنے دیو ہیکل راکٹ اسٹار شپ کے تازہ ترین ورژن کی ایک بڑی حد تک کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کر لی ہے، جس کے بعد یہ خلائی جہاز جمعہ کو بحر ہند میں کامیابی سے اترا۔ اگرچہ اس سفر میں چند تکنیکی خامیاں سامنے آئیں، لیکن لائیو سٹریم پر دکھائے گئے اسپیس ایکس کے ملازمین نے اس آزمائشی پرواز کی تکمیل پر خوشی کا اظہار کیا، جو کہ کمپنی کے ممکنہ ریکارڈ توڑ ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) کی تیاریوں کے دوران ہوئی ہے۔
یہ دیو ہیکل راکٹ مقامی وقت کے مطابق شام 5:30 بجے (2230 GMT) کے فوراً بعد خلا میں روانہ ہوا۔ کمپنی کا ارادہ بوسٹر یا اوپری مرحلے کو دوبارہ حاصل کرنے کا نہیں تھا، اور آخری لینڈنگ (splashdown) منصوبہ بندی کے مطابق شعلہ فشاں مگر کنٹرول شدہ تھی۔ اسپیس ایکس نے اپنے آفیشل X (سابقہ ٹویٹر) اکاؤنٹ پر ‘Splashdown confirmed!’ کا پیغام جاری کیا۔
اسپیس ایکس کا بنیادی مقصد پرواز میں اپنے نئے ڈیزائنز کا مظاہرہ کرنا تھا۔ تیسری نسل کے اسٹار شپ خلائی جہاز نے ایک ایسا ہتھکنڈہ انجام دیا جس میں اس نے خود کو سیدھا کیا اور کنٹرول کے لیے اپنے انجنوں کو دوبارہ روشن کیا، حالانکہ ان میں سے ایک انجن کام نہیں کر رہا تھا۔ اس نے اپنے 22 فرضی سیٹلائٹس بھی تعینات کیے، جن میں سے دو نے تجزیے کے لیے خلائی جہاز کی ہیٹ شیلڈ کی تصاویر لینے کی کوشش کی۔ اگرچہ گاڑی خلا میں تیرتی رہی، لیکن ابتدائی جلنے کے دوران اس کے ایک انجن میں خرابی کے بعد یہ بالکل درست مدار میں نہیں تھی۔ کمپنی کے ترجمان ڈین ہیوٹ نے کہا، ‘میں اسے معمولی مداری داخلہ نہیں کہوں گا،’ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلے سے تجزیہ شدہ مدار کے ‘حدود کے اندر’ تھا۔



