کولمبو: سری لنکا پریمیئر لیگ (ایل پی ایل) ایک نئے تنازعے کی زد میں آ گئی ہے جب پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے مبینہ طور پر ٹورنامنٹ کے اینٹی کرپشن یونٹ سے رابطہ کیا ہے۔ یہ اقدام انہیں ایک میچ سے غیر متوقع طور پر باہر کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے لیگ کے اندرونی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ شاہین آفریدی کا یہ اقدام ایل پی ایل کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے اور ٹورنامنٹ کی ساکھ پر سوالات اٹھا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، تیز رفتار باؤلر شاہین آفریدی کو جب یہ بتایا گیا کہ انہیں باقاعدہ کھلاڑی کے طور پر شامل نہیں کیا جائے گا تو وہ شدید غصے میں آ گئے۔ اس غیر متوقع فیصلے پر ان کی ناراضگی اس قدر بڑھی کہ انہوں نے معاملے کو اینٹی کرپشن یونٹ تک لے جانے کا فیصلہ کیا۔ عام طور پر اینٹی کرپشن یونٹ سے رابطہ میچ فکسنگ یا بدعنوانی جیسے سنگین معاملات میں کیا جاتا ہے، تاہم شاہین آفریدی کا اپنی شمولیت کے حوالے سے شکایت کرنا ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔
شاہین آفریدی کی جانب سے اینٹی کرپشن یونٹ کو شکایت کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ وہ ایل پی ایل سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف شاہین آفریدی کے لیے بلکہ سری لنکا پریمیئر لیگ کے منتظمین کے لیے بھی پریشانی کا باعث ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اینٹی کرپشن یونٹ اس معاملے پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے اور کیا شاہین آفریدی لیگ میں اپنی شرکت جاری رکھتے ہیں یا نہیں، آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو گی۔


