ماہرین کا کہنا ہے کہ فرانسیسی فٹ بال کے سپر اسٹار کیلیان ایمباپے، ریئل میڈرڈ اور لا لیگا نے ماؤ زے تنگ کے بارے میں ایمباپے کے متنازعہ تبصروں پر معافی مانگ لی ہے، لیکن چین میں ان کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان آسانی سے یا جلدی ٹھیک نہیں ہو سکے گا۔
دنیا کے بہترین فٹ بالرز میں سے ایک، فرانس کے کپتان ایمباپے اس ہفتے سامنے آنے والی ایک ویڈیو کے بعد شدید تنازعے کا شکار ہیں، جس میں وہ سابق چینی رہنما ماؤ زے تنگ کا مذاق اڑاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایمباپے نے ایک انٹرنیٹ میم پر اپنی تصویر کو ‘کسی چینی ڈکٹیٹر’ کے چہرے پر فوٹو شاپ کیے جانے پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ چین میں ماؤ زے تنگ کو کمیونسٹ انقلاب کا ہیرو اور عوامی جمہوریہ چین کا بانی سمجھا جاتا ہے اور انہیں سرکاری طور پر انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ مورخین انہیں لاکھوں اموات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، لیکن عوامی سطح پر ان کا مذاق اڑانا ایک ممنوعہ عمل ہے۔ ایمباپے کے ان ریمارکس نے انہیں بیجنگ کو ناراض کرنے والی تازہ ترین غیر ملکی کھیلوں کی شخصیت بنا دیا ہے۔
اس واقعے کے بعد، کئی بڑے چینی برانڈز نے 27 سالہ ایمباپے سے اپنے تعلقات منقطع کر لیے ہیں، اور ہسپانوی ٹاپ فلائٹ فٹ بال لیگ (لا لیگا) کے میچز کو سرکاری ٹیلی ویژن براڈکاسٹر سی سی ٹی وی سے ہٹا دیا جائے گا۔ چینی سرکاری میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین نے ایمباپے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، حالانکہ انہیں اس بارے میں مکمل معلومات نہیں تھیں کہ ایمباپے نے دراصل کیا کہا تھا۔ چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے اور ایک انتہائی منافع بخش مارکیٹ ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، دو دن کے اندر اندر ایمباپے، ان کے کلب ریئل میڈرڈ اور لا لیگا سب نے معافی مانگ لی۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بیجنگ حکومت نے ایمباپے کی معافی کو ‘سنجیدگی سے’ لیا ہے۔
تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق، اگرچہ معافی مانگ لی گئی ہے، لیکن چین میں ان کھیلوں کی شخصیات اور اداروں کی ساکھ کو ‘سنجیدہ نقصان’ پہنچا ہے، جسے بحال کرنے کے لیے انہیں ایک طویل اور مشکل راستہ طے کرنا ہوگا۔



