کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے ایک اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کیا ایم کیو ایم کے قیام سے قبل کراچی میں امن و امان کی صورتحال مثالی تھی؟ انہوں نے یہ سوال “کراچی ڈائیلاگ” کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا، جس میں شہر کے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر ہونے والی بحثوں پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں امن و امان کے مسائل پر تو بات کی جاتی ہے، لیکن ان مسائل کی بنیادی وجوہات اور ان کے تاریخی پس منظر کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک اصل اسباب کو سمجھا اور حل نہیں کیا جائے گا، پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔
چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ کراچی کے مسائل کو صرف موجودہ تناظر میں دیکھنا کافی نہیں ہے۔ ان کے بقول، شہر کی سماجی، سیاسی اور انتظامی تاریخ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے تاکہ موجودہ چیلنجز کی جڑیں تلاش کی جا سکیں۔ ان کے سوال کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ ایم کیو ایم کو کراچی کے مسائل کا واحد ذمہ دار ٹھہرانے سے پہلے ماضی کے حالات کا بھی جائزہ لیا جائے۔


