اسلام آباد – معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس کے والٹس سے اربوں ڈالر منٹوں میں غائب ہو گئے، جس نے کرپٹو کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ تحقیقاتی ادارے 6.3 ارب ڈالر کی اس چوری کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں، اور شک کی سوئی شمالی کوریا کے لازارس ہیکنگ نیٹ ورک کی طرف مڑ گئی ہے۔ یہ واقعہ کرپٹو مارکیٹ میں ایک بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
لازارس گروپ، جو کہ شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والا ایک بدنام زمانہ ہیکنگ نیٹ ورک ہے، ماضی میں بھی بڑے پیمانے پر سائبر حملوں اور مالیاتی چوریوں میں ملوث رہا ہے۔ اس گروپ کو کئی ممالک کی حکومتوں اور سائبر سیکیورٹی ماہرین نے شمالی کوریا کی حکومت سے منسلک قرار دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیانگ یانگ نے واقعی تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو چوری کی منصوبہ بندی کی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کے بین الاقوامی تعلقات اور سائبر سیکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ غیر معمولی سائبر حملہ نہ صرف کرپٹو کرنسی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے بلکہ بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ شمالی کوریا اس چوری کے پیچھے ہے، تو اس کے عالمی سطح پر سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جس میں مزید پابندیاں اور سائبر جنگ کی نئی لہر شامل ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور دنیا بھر کی نظریں اس معاملے پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ اربوں ڈالر کی چوری کا ذمہ دار کون ہے۔
