وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی، عمران خان، کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم سیکیورٹی کلیئرنس کے مسائل کے باعث یہ عمل مکمل نہ ہو سکا۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
وزیر موصوف کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کو طبی معائنے یا علاج کے لیے اسپتال لے جانے کی تیاریاں مکمل تھیں اور انہیں جیل سے روانہ بھی کر دیا گیا تھا، لیکن متعلقہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے مطلوبہ کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے انہیں واپس جیل منتقل کرنا پڑا۔ یہ صورتحال قیدیوں کی منتقلی کے لیے وضع کردہ سیکیورٹی پروٹوکولز کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان اس وقت مختلف مقدمات میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی صحت کے حوالے سے وقتاً فوقتاً خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور انہیں ماضی میں بھی طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا جاتا رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام قیدیوں کو آئین اور قانون کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم سیکیورٹی انتظامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، اور سیکیورٹی کلیئرنس کے معاملات کو حل کرنے کے بعد انہیں دوبارہ اسپتال منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔


