ملک کے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر صدر مملکت اور وزیراعظم کے درمیان پائے جانے والے تناؤ میں کمی آئی ہے، جو بجٹ سازی کے عمل میں ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم، دوسری جانب خیبر پختونخوا (کے پی) نے صوبائی مالیاتی حصص پر عائد کی جانے والی ممکنہ حد پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 1.2 کھرب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کی تقسیم پر صوبوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔
اس حوالے سے خیبر پختونخوا کے ایک مشیر نے واضح کیا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کو صوبوں کے مالیاتی حصص میں ردوبدل کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی آمدنی کے حصص کا تعین آئینی طریقہ کار کے تحت ہوتا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبہ اپنے مالیاتی حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے اور وفاق کی جانب سے ممکنہ طور پر عائد کی جانے والی کسی بھی حد کو آئین کے منافی قرار دے رہا ہے۔
بجٹ کی منظوری اور اس پر عمل درآمد سے قبل وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تقسیم پر یہ کشمکش ملک کے اقتصادی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ صدر اور وزیراعظم کے درمیان تناؤ میں کمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے جو بجٹ سازی کے عمل میں ہم آہنگی پیدا کر سکتی ہے، تاہم خیبر پختونخوا کے تحفظات کو دور کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ تمام صوبوں کو ان کے آئینی حقوق کے مطابق مالی وسائل میسر آ سکیں اور ملک میں مالیاتی انصاف کا بول بالا ہو۔


