نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں تین پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔ انہوں نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اس طرح کے دہشت گردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے جو معصوم جانوں کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اس حملے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے اہل خانہ سے مکمل ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے اور متاثرین کے لواحقین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے حالیہ مہینوں میں شدت اختیار کر گئے ہیں، جس سے عالمی تجارت اور جہاز رانی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کی حمایت کی ہے اور تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے اور پرامن حل تلاش کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کریں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر بحری راستوں کی سلامتی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور پاکستان عالمی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔




