برطانیہ کی دفاعی وزارت نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے پہلی بار تنہا کارروائی کرتے ہوئے ایک روسی ‘شیڈو فلیٹ’ آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائی روس کے ان بحری جہازوں کے مجموعے کے خلاف کی گئی ہے جو ایندھن کی نقل و حمل اور بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
دفاعی وزارت کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے جب برطانوی افواج نے اس فلیٹ کے کسی جہاز کو روکنے کے لیے اکیلے کارروائی کی ہے۔ ‘شیڈو فلیٹ’ ایسے بحری جہازوں پر مشتمل ہے جو عام طور پر پرانے ہوتے ہیں اور ان کی ملکیت کا ڈھانچہ مبہم ہوتا ہے تاکہ روس کو مغربی پابندیوں کے باوجود اپنا تیل عالمی منڈیوں میں فروخت کرنے میں مدد مل سکے۔ یہ فلیٹ روس کی معیشت کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے جس کے ذریعے وہ یوکرین پر حملے کے بعد عائد کردہ پابندیوں کو نظرانداز کرتا ہے۔
یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے، مغربی ممالک نے روس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان پابندیوں کا مقصد روس کی جنگی مشینری کو مالی امداد سے محروم کرنا ہے۔ اس کارروائی کو روس کے پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کے خلاف ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ برطانیہ اس معاملے پر سنجیدہ ہے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔



