برطانیہ کے معروف مصنفین اور ادیبوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ‘فلسطین ایکشن’ نامی گروپ پر عائد ‘ظالمانہ’ پابندی کو فوری طور پر ختم کرے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ‘رونی’ سے متعلقہ فروخت کا سلسلہ اختتام پذیر ہوا ہے، جس نے فلسطین کے حامیوں کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مصنفین نے اس پابندی کو آزادی اظہار رائے اور پرامن احتجاج کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مصنفین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ‘فلسطین ایکشن’ ایک ایسا گروپ ہے جو فلسطینی حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے اور اسرائیل کے دفاعی اداروں سے منسلک برطانوی کمپنیوں کے خلاف پرامن احتجاج کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اس گروپ پر پابندی عائد کرنا آزادی اظہار رائے اور پرامن احتجاج کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے، اور یہ ایک ‘جابرانہ’ اقدام ہے جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو اپنے شہریوں کو پرامن طریقے سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔
ادیبوں نے برطانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس پابندی پر نظر ثانی کرے اور انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کا احترام کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی پابندیاں نہ صرف اختلاف رائے کو دباتی ہیں بلکہ معاشرے میں بے چینی کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ مصنفین نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت ان کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور ‘فلسطین ایکشن’ کو اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دے گی تاکہ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے۔




