پاکستان کی معروف اور تجربہ کار اداکارہ بشریٰ انصاری نے ٹی وی پر مرد کامیڈینز کے خواتین کا روپ دھارنے کے رجحان پر کھل کر تنقید کی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان کے اس بیان نے شوبز حلقوں اور ناظرین میں مختلف آراء کو جنم دیا ہے۔
بشریٰ انصاری نے اپنے حالیہ بیان میں اس عمل کو مزاح کے نام پر خواتین کی تضحیک قرار دیا اور کہا کہ یہ رجحان اب پرانا ہو چکا ہے اور اسے ترک کر دینا چاہیے۔ ان کے اس موقف کو جہاں کچھ افراد نے سراہا اور اسے خواتین کے احترام کے لیے ضروری قرار دیا، وہیں سوشل میڈیا پر ایک بڑی تعداد نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
تنقید کرنے والوں نے بشریٰ انصاری پر منافقت کا الزام عائد کیا اور ان کے اپنے ماضی کے کرداروں کی مثالیں پیش کیں، جہاں انہوں نے خود بھی مزاحیہ انداز میں مختلف روپ دھارے تھے یا ایسے کردار نبھائے تھے جن میں جنس کی حدود کو توڑا گیا تھا۔ صارفین کا کہنا تھا کہ ایک فنکار کو دوسرے فنکاروں کے کام پر اس طرح تنقید کرنے سے پہلے اپنے ماضی کو بھی دیکھنا چاہیے۔ یہ بحث اب بھی جاری ہے اور شوبز انڈسٹری میں مزاح کی حدود اور فنکارانہ آزادی کے موضوع پر نئے سوالات اٹھا رہی ہے۔








