کوئٹہ: خواتین پارلیمانی کاکس نے بلوچستان میں تیزاب حملوں کے خلاف قانون سازی کو تیز کرنے کے لیے اہم اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صوبے میں تیزاب حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانا اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں کمی لانے کے لیے مؤثر قوانین کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
اس سلسلے میں ایک مشترکہ جائزہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو تیزاب حملوں سے متعلق موجودہ قوانین کا جائزہ لے گی اور نئی جامع قانون سازی کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔ اس کمیٹی کا بنیادی ہدف تیزاب کی خرید و فروخت کو منظم کرنا، اس کے غلط استعمال کو روکنا اور تیزاب حملوں کے متاثرین کو مکمل تحفظ اور بحالی فراہم کرنا ہوگا۔ کمیٹی مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی اور متاثرین کے نمائندوں سے مشاورت کرے گی۔
خواتین پارلیمانی کاکس کا یہ اقدام بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں تشدد سے بچانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ توقع ہے کہ اس قانون سازی کے ذریعے تیزاب حملوں کے مجرموں کو سخت سزائیں دی جا سکیں گی اور معاشرے میں ایسے گھناؤنے جرائم کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ یہ قانون متاثرین کی طبی امداد، نفسیاتی بحالی اور سماجی انضمام کو بھی یقینی بنائے گا تاکہ وہ ایک باوقار زندگی گزار سکیں۔






