بھارتی میڈیا کے 21 بڑے اداروں نے، جن میں مکیش امبانی اور گوتم اڈانی جیسے بڑے کاروباری شخصیات کی ملکیت والی کمپنیاں بھی شامل ہیں، نریندر مودی حکومت کے نئے پرائیویسی قانون کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ یہ قانون نیوز رومز کی آزادی اور ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کر سکتا ہے، جس سے ان کی بندش کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
یہ قانون، جسے حکومت نے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کا نام دیا ہے، صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن میڈیا گروپس کا مؤقف ہے کہ اس کی بعض شقیں صحافتی عمل اور خبروں کی اشاعت میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ خاص طور پر، یہ قانون صحافیوں کو ذرائع کی حفاظت کرنے اور تحقیقاتی رپورٹنگ کرنے میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے، جو بالآخر میڈیا کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔
دہلی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی اس درخواست میں میڈیا اداروں نے دلیل دی ہے کہ یہ قانون آئین میں دی گئی آزادی اظہار رائے اور پریس کی آزادی کے منافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون اپنی موجودہ شکل میں نافذ ہوتا ہے تو بہت سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے نیوز رومز کے لیے اپنا کام جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا، اور انہیں بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس عدالتی چیلنج کو بھارت میں میڈیا کی آزادی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔



