بھارت میں ایک نئے اسکول کی نصابی کتاب میں ہڑپہ تہذیب کے مشہور مجسمے “رقاصہ لڑکی” (Dancing Girl) کے برہنہ دھڑ کو سیاہ رنگ سے ڈھکنے کے بعد شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا، جس کے نتیجے میں اب اس کی اصل حالت کو بحال کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ تعلیمی مواد میں تاریخی حقائق کی تبدیلی پر ایک نئی بحث کا باعث بنا تھا۔
یہ مجسمہ، جو تقریباً 4500 سال پرانا ہے اور موہنجو داڑو کی قدیم تہذیب سے تعلق رکھتا ہے، اپنی اصل شکل میں ایک برہنہ دھڑ والی لڑکی کو دکھاتا ہے۔ نصابی کتاب میں اس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہوئے، اس کے برہنہ حصے کو سیاہ رنگ سے ڈھکنے کی کوشش کی گئی تھی، جسے ماہرین آثار قدیمہ اور عام شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ اقدام تاریخی ورثے کی تحریف اور بچوں کو غلط معلومات فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
عوامی دباؤ اور سوشل میڈیا پر شدید بحث کے بعد، متعلقہ حکام اور نصابی کتاب کے ناشرین نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور فوری طور پر مجسمے کی اصل، غیر تبدیل شدہ تصویر کو نصابی کتاب میں بحال کرنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام کو تاریخی حقائق اور ثقافتی ورثے کے احترام کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، اور یہ تعلیمی مواد میں درستگی کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔





