بھارت میں نوجوانوں کی جانب سے حکومتی حمایت یافتہ میڈیا، جسے عام طور پر ‘گودی میڈیا’ کے نام سے جانا جاتا ہے، کے گمراہ کن کردار کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ یہ اصطلاح ایسے میڈیا ہاؤسز کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو حکومت کے ایجنڈے کو فروغ دیتے ہیں اور عوامی مسائل کو نظر انداز کرتے ہیں۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ یہ میڈیا عوام کی حقیقی آواز بننے کے بجائے حکمران جماعت کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے۔
نوجوانوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ‘گودی میڈیا’ کا بنیادی مقصد عوامی مسائل جیسے مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور سماجی عدم مساوات سے توجہ ہٹانا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ یہ میڈیا ہاؤسز مالی مفادات کے تحت کام کرتے ہیں اور ان کا عوامی فلاح و بہبود سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے بجائے، وہ ایسے موضوعات کو ترجیح دیتے ہیں جو حکومتی بیانیے کو مضبوط کریں یا معاشرے میں تقسیم پیدا کریں۔
اس صورتحال کے پیش نظر، بھارتی نوجوان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور دیگر ذرائع سے اپنی آواز بلند کر رہے ہیں تاکہ میڈیا کو اس کی بنیادی ذمہ داری یاد دلائی جا سکے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ میڈیا کو غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کرنی چاہیے اور عوام کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرنا چاہیے۔ یہ تحریک صحافت کے اخلاقی اصولوں کی بحالی اور میڈیا کی آزادی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔





