بھارت میں کل شرح پیدائش (TFR) میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو اب 1.9 بچوں فی خاتون تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار 2.1 کی متبادل شرح سے کم ہیں، جسے آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کمی کے پیچھے متعدد پیچیدہ عوامل کارفرما ہیں جن میں بچوں کی پرورش کے بڑھتے ہوئے اخراجات، خواتین کے کیریئر کے انتخاب اور ذاتی آزادی کے بڑھتے ہوئے رجحانات شامل ہیں۔
بچوں کی پرورش کے بڑھتے ہوئے اخراجات اس رجحان کی ایک اہم وجہ ہیں۔ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور روزمرہ کے اخراجات میں مسلسل اضافے نے خاندانوں کے لیے زیادہ بچوں کی پرورش کو مالی طور پر مشکل بنا دیا ہے۔ خاص طور پر شہری علاقوں میں، جہاں زندگی کا معیار بلند ہے اور اس کے ساتھ ہی اخراجات بھی زیادہ ہیں، والدین ایک یا دو بچوں پر اکتفا کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ انہیں بہتر سہولیات اور مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
خواتین کی تعلیم اور ملازمت کے مواقع میں اضافے نے بھی اس صورتحال میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ زیادہ خواتین اب اپنے کیریئر پر توجہ دے رہی ہیں اور شادی اور بچوں کی پیدائش کو مؤخر کر رہی ہیں۔ خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں تک بہتر رسائی اور ذاتی انتخاب کی آزادی نے بھی افراد کو اپنے خاندان کے سائز کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے کی صلاحیت دی ہے۔ یہ تبدیلیاں نہ صرف سماجی ڈھانچے کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ مستقبل میں بھارت کی آبادیاتی پروفائل اور اقتصادی ترقی پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گی۔



