بھارت: 20 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد کارکن سونم وانگچک زبردستی ہسپتال منتقل، ایک اور نے احتجاج جاری رکھا

بھارت میں ایک معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو 20 دن کی طویل بھوک ہڑتال کے بعد زبردستی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ وہ لداخ کے ماحولیاتی تحفظ اور آئینی حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے، جس میں چھٹے شیڈول کے تحت لداخ کو خصوصی حیثیت دینے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ ان کی صحت بگڑنے کے بعد حکام نے انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

وانگچک کی صحت بگڑنے اور انہیں ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد، ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے بانی ابھیجیت دپکے نے ان کی جگہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ دپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک لداخ کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔ ان کا یہ اقدام لداخ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ احتجاج کا جذبہ ابھی بھی برقرار ہے۔

اس پیش رفت نے لداخ کے معاملے پر حکومتی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سماجی حلقوں اور کارکنوں کی جانب سے اس احتجاج کو وسیع حمایت حاصل ہو رہی ہے، اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ مظاہرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔ یہ واقعہ بھارت میں شہری حقوق اور احتجاج کی آزادی کے حوالے سے جاری بحث کو بھی نمایاں کرتا ہے، جہاں کارکنان اپنے مطالبات منوانے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

  • Related Posts

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی، برینٹ 114 ڈالر فی بیرل پر آگیا

    عالمی تیل کی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں بینچ مارک برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 114 ڈالر فی بیرل پر آ…

    پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل: اسلام آباد میں انفارمیشن کوریڈور کا آغاز، چینی ترجمان کی آمد

    پاکستان اور چین کے درمیان لازوال دوستی کے 75 سال مکمل ہونے پر دونوں ممالک آج ایک اہم سنگ میل عبور کر رہے ہیں۔ اس تاریخی موقع پر، چین پاکستان…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔