بینک آف جاپان کا اعلان: 13 سال بعد مہنگائی 2 فیصد ہدف پر

ٹوکیو: جاپان کے مرکزی بینک (بینک آف جاپان) نے ایک اہم اعلان میں بتایا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 13 سال کے طویل عرصے کے بعد اپنے 2 فیصد کے ہدف تک پہنچ گئی ہے۔ یہ پیش رفت جاپان کی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے، جو کئی دہائیوں سے افراط زر (deflation) کے مسئلے سے دوچار تھی۔

مرکزی بینک نے طویل عرصے سے معیشت کو متحرک کرنے اور قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے انتہائی نرم مالیاتی پالیسیاں اپنا رکھی تھیں۔ 2 فیصد کا ہدف عام طور پر ایک صحت مند معیشت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جو صارفین کی قوت خرید کو برقرار رکھتے ہوئے کمپنیوں کو ترقی کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جاپان میں قیمتوں کے گرنے یعنی افراط زر کی وجہ سے صارفین خریداری ملتوی کر دیتے تھے اور کمپنیاں سرمایہ کاری سے گریز کرتی تھیں، جس سے معاشی ترقی سست روی کا شکار رہتی تھی۔

اس کامیابی کے بعد، اب ماہرین کی نظریں بینک آف جاپان کی آئندہ مالیاتی پالیسی پر مرکوز ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بینک اپنی انتہائی نرم مالیاتی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی لاتا ہے یا نہیں، خاص طور پر جب عالمی سطح پر دیگر مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت جاپان کی معیشت کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتی ہے، جہاں قیمتوں میں استحکام اور معاشی نمو کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔

  • Related Posts

    الفابیٹ کو تاریخ کا سب سے بڑا نقصان: 482 ارب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو میں کمی

    عالمی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی اور گوگل کی پیرنٹ کمپنی، الفابیٹ کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں…

    امریکی اسٹاکس میں تنزلی: گوگل کی پیرنٹ کمپنی کی آمدنی میں کمی نے AI اخراجات کے خدشات کو پھر سے زندہ کر دیا

    جمعرات کو امریکی اسٹاک کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت (AI) پر بڑے پیمانے پر اخراجات کا دوبارہ جائزہ لیا۔…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔