بی بی سی نے اپنی ایک چونکا دینے والی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام بھارت میں ایسے اشتہارات چلا رہا ہے جو بچوں سے جنسی زیادتی کے مواد (CSAM) کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ انکشاف آن لائن پلیٹ فارمز پر بچوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے اور ڈیجیٹل دنیا میں مواد کی نگرانی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق، یہ اشتہارات واضح طور پر “ریپ” (Rape) اور “چائلڈ ویڈیو” (Child Video) جیسی انتہائی حساس اور قابل اعتراض اصطلاحات کا استعمال کرتے ہیں۔ ان اشتہارات کا مقصد صارفین کو ٹیلی گرام (Telegram) نامی میسجنگ ایپ پر موجود مواد کی طرف راغب کرنا ہے، جہاں بچوں سے متعلق غیر اخلاقی اور جنسی نوعیت کا مواد دستیاب ہوتا ہے۔ یہ طریقہ کار مجرموں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے وسیع تر سامعین تک رسائی فراہم کرتا ہے۔
اس انکشاف نے عالمی سطح پر بچوں کے حقوق کے علمبرداروں اور سائبر سکیورٹی ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مواد کی تشہیر نہ صرف بچوں کے خلاف جرائم کو مزید بڑھاوا دے سکتی ہے بلکہ آن لائن پلیٹ فارمز کی جانب سے مواد کی نگرانی میں ناکامی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ انسٹاگرام اور اس کی پیرنٹ کمپنی میٹا پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ بچوں کو آن لائن استحصال سے بچایا جا سکے۔


