نئی دہلی: بھارت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک معروف رہنما کی بیٹی یشسوینی راجے سنگھ نے حال ہی میں الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ملک بھر میں جاری طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں نوجوانوں کی جانب سے مختلف سماجی اور سیاسی مسائل پر آواز اٹھائی جا رہی ہے۔
یشسوینی راجے سنگھ نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان وجوہات کی وضاحت کی جن کی بنا پر وہ ان احتجاجی تحریکوں کی تائید کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے اور انہیں ملک کے مستقبل کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ بھارت میں طلبہ کی جانب سے کئی اہم معاملات پر احتجاج کیا جا رہا ہے، جن میں حکومتی پالیسیاں، تعلیمی اصلاحات اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغنیں شامل ہیں۔
ایک ایسے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود جہاں حکمران جماعت کا اثر و رسوخ ہے، یشسوینی راجے سنگھ کا یہ موقف ملک کے اندر مختلف سیاسی نظریات اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بیداری کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکمران جماعت کے اندر بھی بعض افراد نوجوانوں کے مطالبات اور ان کے احتجاج کو جائز سمجھتے ہیں۔






